اس سورۃ کے بارے میں
سورہ العصر (عربی: العصر) کا مطلب زمانہ یا گزرتا ہوا وقت ہے، اور یہ نام اس قسم سے لیا گیا ہے جو سورہ کے شروع میں کھائی گئی۔ یہ قرآن مجید کی ایک سو تیسری سورہ ہے اور اس کی صرف تین آیات ہیں، جو اسے قرآن کی مختصر ترین سورتوں میں شامل کرتی ہیں۔ یہ مکی سورہ ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی دور میں نازل ہوئی۔ اس کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ وقت گواہ ہے کہ انسان خسارے میں ہے، سوائے چند لوگوں کے۔
سورہ چار شرطیں بیان کرتی ہے جن سے انسان خسارے سے بچتا ہے: ایمان لانا، نیک عمل کرنا، ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرنا اور صبر کی تلقین کرنا۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا مشہور قول ہے کہ اگر لوگ صرف اسی سورہ پر غور کر لیں تو یہی ان کی رہنمائی کے لیے کافی ہو۔ روایات میں آیا ہے کہ صحابہ کرام جب آپس میں ملتے تو جدا ہونے سے پہلے ایک دوسرے کو یہ سورہ سنایا کرتے تھے۔ آج بھی یہ سورہ ہر مسلمان کو یاد دلاتی ہے کہ وقت سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔