Skip to main content

سورة الفاتحة

سورۃ Al-Fatihah - The Opening

باب 1 | 7 آیات

ترجمہ: فتح محمد جالندھری

اس سورۃ کے بارے میں

سورہ فاتحہ (عربی: الفاتحة) کے نام کا مطلب ہے کھولنے والی یا آغاز کرنے والی۔ یہ قرآن مجید کی پہلی سورہ ہے اور اس کی سات آیات ہیں۔ اکثر مفسرین اسے مکی قرار دیتے ہیں، اگرچہ بعض روایات میں مدنی ہونے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہونے والی سورتوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ اس کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ بندہ اللہ کی حمد کرے، صرف اسی کی عبادت کرے، اسی سے مدد مانگے اور سیدھے راستے کی ہدایت طلب کرے۔

مختصر ہونے کے باوجود یہ سورہ پورے قرآن کے بنیادی مضامین کو سمیٹ لیتی ہے، اسی لیے اسے ام الکتاب یعنی کتاب کی ماں کہا جاتا ہے۔ آیت "ایاک نعبد و ایاک نستعین" توحید کا نچوڑ ہے، اور "اھدنا الصراط المستقیم" وہ دعا ہے جو ہر مسلمان دن میں کئی بار دہراتا ہے۔ نماز کی ہر رکعت میں پڑھے جانے کی وجہ سے یہ ایک مسلمان کی زندگی میں سب سے زیادہ دہرائی جانے والی سورہ ہے، اور اسی لیے یہ محض تلاوت نہیں بلکہ روزانہ کی رہنمائی کی دعا بھی ہے۔

اہم موضوعات

  • اللہ کی حمد اور اس کی رحمت کا اقرار
  • صرف اللہ کی عبادت اور اسی سے مدد کا سوال
  • سیدھے راستے کی ہدایت کی دعا
  • ہر رکعت میں پڑھی جانے والی بنیادی سورہ
1

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

Bismillaahir Rahmaanir Raheem

اللہ کےنام سے جو رحمان و رحیم ہے

2

ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

Alhamdu lillaahi Rabbil 'aalameen

تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام کائنات کا رب ہے

3

ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

Ar-Rahmaanir-Raheem

رحمان اور رحیم ہے

4

مَٰلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ

Maaliki Yawmid-Deen

روزِ جزا کا مالک ہے

5

إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ

Iyyaaka na'budu wa lyyaaka nasta'een

ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں

6

ٱهْدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلْمُسْتَقِيمَ

Ihdinas-Siraatal-Mustaqeem

ہمیں سیدھا راستہ دکھا

7

صِرَٰطَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ ٱلْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا ٱلضَّآلِّينَ

Siraatal-lazeena an'amta 'alaihim ghayril-maghdoobi 'alaihim wa lad-daaalleen

ان لوگوں کاراستہ جن پر تو نے انعام فرمایا ، جو معتوب نہیں ہوئے، جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں

اکثر پوچھے گئے سوالات

سورہ فاتحہ ہر نماز میں کیوں پڑھی جاتی ہے؟

روایات میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنے کی تاکید فرمائی۔ اکثر علماء اسے نماز کے صحیح ہونے کے لیے لازم قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ بندگی اور دعا دونوں کو ایک ساتھ بیان کر دیتی ہے۔

سورہ فاتحہ کو سبع مثانی کیوں کہا جاتا ہے؟

سبع مثانی کا مطلب ہے بار بار دہرائی جانے والی سات آیات۔ چونکہ یہ سات آیات ہر نماز کی ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں، اس لیے قرآن مجید میں اسے یہ نام دیا گیا ہے۔

سورہ فاتحہ سب سے آسانی سے کیسے یاد کی جا سکتی ہے؟

یہ سات مختصر آیات پر مشتمل ہے، اس لیے عام طور پر بچوں کو سب سے پہلے یہی سورہ یاد کرائی جاتی ہے۔ کسی اچھے قاری کی تلاوت سن کر ایک ایک آیت دہرانا اور ساتھ ساتھ ترجمہ سمجھنا حفظ کو تیز اور پائیدار بنا دیتا ہے۔

قرآن کریم آڈیو کے ساتھ سنیں

آڈیو سنیں