اس سورۃ کے بارے میں
سورہ فاتحہ (عربی: الفاتحة) کے نام کا مطلب ہے کھولنے والی یا آغاز کرنے والی۔ یہ قرآن مجید کی پہلی سورہ ہے اور اس کی سات آیات ہیں۔ اکثر مفسرین اسے مکی قرار دیتے ہیں، اگرچہ بعض روایات میں مدنی ہونے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہونے والی سورتوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ اس کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ بندہ اللہ کی حمد کرے، صرف اسی کی عبادت کرے، اسی سے مدد مانگے اور سیدھے راستے کی ہدایت طلب کرے۔
مختصر ہونے کے باوجود یہ سورہ پورے قرآن کے بنیادی مضامین کو سمیٹ لیتی ہے، اسی لیے اسے ام الکتاب یعنی کتاب کی ماں کہا جاتا ہے۔ آیت "ایاک نعبد و ایاک نستعین" توحید کا نچوڑ ہے، اور "اھدنا الصراط المستقیم" وہ دعا ہے جو ہر مسلمان دن میں کئی بار دہراتا ہے۔ نماز کی ہر رکعت میں پڑھے جانے کی وجہ سے یہ ایک مسلمان کی زندگی میں سب سے زیادہ دہرائی جانے والی سورہ ہے، اور اسی لیے یہ محض تلاوت نہیں بلکہ روزانہ کی رہنمائی کی دعا بھی ہے۔