Skip to main content

سورة الضحى

سورۃ Ad-Duha - The Morning Hours

باب 93 | 11 آیات

ترجمہ: فتح محمد جالندھری

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اس سورۃ کے بارے میں

سورہ الضحیٰ (عربی: الضحى) کا مطلب چاشت کا وقت یعنی دن چڑھے کی روشنی ہے، اور یہ نام سورہ کی پہلی قسم سے لیا گیا ہے۔ یہ قرآن مجید کی ترانوے ویں سورہ ہے اور اس کی گیارہ آیات ہیں۔ یہ مکی سورہ ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے ابتدائی زمانے میں اس وقت نازل ہوئی جب کچھ عرصہ وحی کا سلسلہ رکا رہا اور مخالفین نے طعنے دینا شروع کر دیے۔ اس کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اللہ نے اپنے نبی کو نہ چھوڑا ہے اور نہ ناراض ہوا ہے۔

سورہ میں اللہ چاشت کی روشنی اور رات کے سکون کی قسم کھا کر تسلی دیتا ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے پچھلے احسانات یاد دلاتا ہے کہ یتیمی میں پناہ دی، راستہ دکھایا اور تنگدستی کے بعد کفایت عطا کی۔ آخر میں تین عملی ہدایات ہیں: یتیم پر سختی نہ کرنا، سائل کو نہ جھڑکنا اور اللہ کی نعمت کا تذکرہ کرتے رہنا۔ یہ سورہ ہر اس شخص کے لیے امید کا پیغام ہے جو مایوسی یا تنہائی محسوس کر رہا ہو۔

اہم موضوعات

  • وحی کے وقفے کے بعد اللہ کی طرف سے تسلی
  • اللہ کے پچھلے احسانات کی یاد دہانی
  • آخرت کا حال دنیا سے بہتر ہونے کی بشارت
  • یتیم اور سائل کے ساتھ حسنِ سلوک
1

وَٱلضُّحَىٰ

Wad duhaa

قسم ہے روزِ روشن کی

2

وَٱلَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ

Wal laili iza sajaa

اور رات کی جبکہ وہ سکون کے ساتھ طاری ہو جائے

3

مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ

Ma wad da'aka rabbuka wa ma qalaa

(اے نبیؐ) تمہارے ربّ نے تم کو ہر گز نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا۔

4

وَلَلْءَاخِرَةُ خَيْرٌۭ لَّكَ مِنَ ٱلْأُولَىٰ

Walal-aakhiratu khairul laka minal-oola

اور یقیناً تمہارے لیے بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہے،

5

وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰٓ

Wa la sawfa y'uteeka rabbuka fatarda

اور عنقریب تمہارا ربّ تم کو اتنا دے گا کہ تم خوش ہو جاوٴ گے۔

6

أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًۭا فَـَٔاوَىٰ

Alam ya jidka yateeman fa aawaa

کیا اُس نے تم کو یتیم نہیں پایا اور پھر ٹھِکانا فراہم کیا؟

7

وَوَجَدَكَ ضَآلًّۭا فَهَدَىٰ

Wa wa jadaka daal lan fahada

اور تمہیں ناواقفِ راہ پایا اور پھر ہدایت بخشی۔

8

وَوَجَدَكَ عَآئِلًۭا فَأَغْنَىٰ

Wa wa jadaka 'aa-ilan fa aghnaa

اور تمہیں نادار پایا اور پھر مالدار کر دیا۔

9

فَأَمَّا ٱلْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ

Fa am mal yateema fala taqhar

لہٰذا یتیم پر سختی نہ کرو،

10

وَأَمَّا ٱلسَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْ

Wa am mas saa-ila fala tanhar

اور سائل کو نہ جھِڑکو،

11

وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ

Wa amma bi ni'mati rabbika fahad dith

اور اپنے ربّ کی نعمت کا اظہار کرو۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

سورہ الضحیٰ کس موقع پر نازل ہوئی؟

روایات میں آیا ہے کہ کچھ عرصہ وحی کا نزول رک گیا تو مخالفین نے کہنے لگے کہ ان کے رب نے انہیں چھوڑ دیا۔ اسی موقع پر یہ سورہ نازل ہوئی اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی کہ ایسا ہرگز نہیں۔

اس سورہ سے ایک عام مسلمان کو کیا سبق ملتا ہے؟

یہ سورہ سکھاتی ہے کہ آزمائش کا وقت اللہ کی ناراضی کی دلیل نہیں ہوتا۔ ماضی میں ملنے والی نعمتیں یاد کرنا اور آنے والے وقت سے امید رکھنا ہی مایوسی کا علاج ہے۔

کیا اسے سورہ الم نشرح کے ساتھ ملا کر پڑھنا چاہیے؟

دونوں سورتوں کا مضمون آپس میں گہرا تعلق رکھتا ہے، اسی لیے بہت سے قاری انہیں ایک ساتھ پڑھتے ہیں۔ بعض علماء نماز میں انہیں ملا کر پڑھنے کو مستحب کہتے ہیں، اگرچہ یہ کوئی لازمی حکم نہیں۔

قرآن کریم آڈیو کے ساتھ سنیں

آڈیو سنیں