Skip to main content

سورة الشرح

سورۃ Ash-Sharh - The Relief

باب 94 | 8 آیات

ترجمہ: فتح محمد جالندھری

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اس سورۃ کے بارے میں

سورہ الم نشرح (عربی: الشرح) کا مطلب ہے کھول دینا یا کشادہ کر دینا، اور یہ نام پہلی آیت سے لیا گیا ہے جس میں سینے کے کھول دیے جانے کا ذکر ہے۔ یہ قرآن مجید کی چورانویں سورہ ہے اور اس کی صرف آٹھ آیات ہیں۔ یہ مکی سورہ ہے اور نبوت کے ابتدائی دور میں سورہ الضحیٰ کے فوراً بعد نازل ہوئی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعوت کی مشکلات اور مخالفت کے بوجھ کا سامنا کر رہے تھے۔ اس کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اللہ اپنے بندے کا بوجھ ہلکا کرتا ہے۔

سورہ میں اللہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد دلاتا ہے کہ ہم نے آپ کا سینہ کھول دیا، آپ کا بوجھ اتار دیا اور آپ کا ذکر بلند کر دیا۔ اس کے بعد وہ مشہور جملہ آتا ہے جو دو بار دہرایا گیا: "إِنَّ مَعَ ٱلْعُسْرِ يُسْرًا" یعنی بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ آخر میں حکم ہے کہ فراغت ملے تو محنت کرو اور اپنے رب کی طرف رغبت رکھو۔ یہی وجہ ہے کہ پریشانی اور تنگی کے وقت مسلمان اس سورہ سے سب سے زیادہ حوصلہ پاتے ہیں۔

اہم موضوعات

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے کا کھول دیا جانا
  • بوجھ کا اتارا جانا اور ذکر کا بلند ہونا
  • ہر تنگی کے ساتھ آسانی کا وعدہ
  • فراغت کے بعد محنت اور اللہ کی طرف رجوع
1

أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ

Alam nashrah laka sadrak

(اے نبیؐ) کیا ہم نے تمہارا سینہ تمہارے لیے کھول نہیں دیا؟

2

وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ

Wa wa d'ana 'anka wizrak

اور تم پر سے وہ بھاری بوجھ اتار دیا

3

ٱلَّذِىٓ أَنقَضَ ظَهْرَكَ

Allazee anqada zahrak

جو تمہاری کمر توڑ ڈال رہا تھا۔

4

وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ

Wa raf 'ana laka zikrak

اور تمہاری خاطر تمہارے ذِکر کا آوازہ بلند کردیا۔

5

فَإِنَّ مَعَ ٱلْعُسْرِ يُسْرًا

Fa inna ma'al usri yusra

پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے

6

إِنَّ مَعَ ٱلْعُسْرِ يُسْرًۭا

Inna ma'al 'usri yusra

بے شک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔

7

فَإِذَا فَرَغْتَ فَٱنصَبْ

Fa iza faragh ta fansab

لہٰذا جب تم فارغ ہو تو عبادت کی مشقت میں لگ جاؤ

8

وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَٱرْغَب

Wa ilaa rabbika far ghab

اور اپنے ربّ ہی کی طرف راغب ہو۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

إِنَّ مَعَ ٱلْعُسْرِ يُسْرًا کا مطلب کیا ہے؟

اس کا مطلب ہے کہ بے شک تنگی کے ساتھ آسانی بھی ہے۔ یہ جملہ سورہ میں دو بار آیا ہے، اور اس تکرار سے یہ وعدہ مزید مضبوط ہو جاتا ہے کہ ہر مشکل کے ساتھ راحت ضرور آتی ہے۔

کیا اسے سورہ الضحیٰ کے ساتھ ملا کر پڑھا جاتا ہے؟

دونوں سورتیں ایک ہی زمانے میں اور ایک ہی مضمون پر نازل ہوئیں، اس لیے انہیں اکثر ایک ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ تاہم انہیں ایک ساتھ پڑھنا کوئی لازمی حکم نہیں۔

پریشانی میں یہ سورہ پڑھنے کا کیا فائدہ ہے؟

اس کی آیات دل کو یاد دلاتی ہیں کہ بوجھ ہلکا کرنے والا اللہ ہے اور مشکل ہمیشہ نہیں رہتی۔ آٹھ مختصر آیات ہونے کی وجہ سے اسے آسانی سے یاد کر کے پریشانی کے وقت سمجھتے ہوئے پڑھا جا سکتا ہے۔

قرآن کریم آڈیو کے ساتھ سنیں

آڈیو سنیں