اس سورۃ کے بارے میں
سورہ اخلاص (عربی: الإخلاص) کا مطلب خالص کرنا یعنی عقیدے کو ہر آمیزش سے پاک رکھنا ہے۔ یہ قرآن مجید کی ایک سو بارہویں سورہ ہے اور اس کی چار آیات ہیں۔ اکثر مفسرین اسے مکی قرار دیتے ہیں، اگرچہ بعض روایات میں مدنی ہونے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ روایات کے مطابق یہ اس وقت نازل ہوئی جب لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ کا رب کیسا ہے اور اس کا نسب کیا ہے۔ اس کا مرکزی مضمون اللہ کی وحدانیت اور بے مثال ہونے کا بیان ہے۔
سورہ چار مختصر جملوں میں پورا عقیدہ توحید سمو دیتی ہے: اللہ ایک ہے، وہ بے نیاز ہے، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد، اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔ روایات میں آیا ہے کہ یہ سورہ ثواب میں قرآن کے تہائی حصے کے برابر ہے، کیونکہ قرآن کے بنیادی مضامین میں سے ایک پورا مضمون یعنی توحید اس میں آ گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے اسے معوذتین کے ساتھ پڑھتے تھے، اور بہت سے لوگ اسے ابتدائی سورتوں میں یاد کرتے ہیں۔