Skip to main content

سورة الإخلاص

سورۃ Al-Ikhlas - The Sincerity

باب 112 | 4 آیات

ترجمہ: فتح محمد جالندھری

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اس سورۃ کے بارے میں

سورہ اخلاص (عربی: الإخلاص) کا مطلب خالص کرنا یعنی عقیدے کو ہر آمیزش سے پاک رکھنا ہے۔ یہ قرآن مجید کی ایک سو بارہویں سورہ ہے اور اس کی چار آیات ہیں۔ اکثر مفسرین اسے مکی قرار دیتے ہیں، اگرچہ بعض روایات میں مدنی ہونے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ روایات کے مطابق یہ اس وقت نازل ہوئی جب لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ کا رب کیسا ہے اور اس کا نسب کیا ہے۔ اس کا مرکزی مضمون اللہ کی وحدانیت اور بے مثال ہونے کا بیان ہے۔

سورہ چار مختصر جملوں میں پورا عقیدہ توحید سمو دیتی ہے: اللہ ایک ہے، وہ بے نیاز ہے، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد، اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔ روایات میں آیا ہے کہ یہ سورہ ثواب میں قرآن کے تہائی حصے کے برابر ہے، کیونکہ قرآن کے بنیادی مضامین میں سے ایک پورا مضمون یعنی توحید اس میں آ گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے اسے معوذتین کے ساتھ پڑھتے تھے، اور بہت سے لوگ اسے ابتدائی سورتوں میں یاد کرتے ہیں۔

اہم موضوعات

  • اللہ کی وحدانیت کا دو ٹوک اعلان
  • اللہ کا بے نیاز اور بے مثال ہونا
  • اولاد اور شرکت کی ہر نسبت کی نفی
  • عقیدے کو خالص رکھنے کی تعلیم
1

قُلْ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ

Qul huwal laahu ahad

کہو، وہ اللہ ہے، یَکتا۔

2

ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ

Allah hus-samad

اللہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں۔

3

لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ

Lam yalid wa lam yoolad

نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد۔

4

وَلَمْ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدٌۢ

Wa lam yakul-lahu kufuwan ahad

اور کوئی اُس کا ہمسر نہیں ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

سورہ اخلاص کو تہائی قرآن کیوں کہا جاتا ہے؟

روایات میں آیا ہے کہ یہ سورہ ثواب میں قرآن کے تہائی حصے کے برابر ہے۔ قرآن کے بنیادی مضامین توحید، احکام اور آخرت ہیں، اور یہ سورہ ان میں سے پورا موضوعِ توحید بیان کر دیتی ہے، بعض شارحین کے نزدیک اسی مناسبت سے اسے تہائی قرآن کہا گیا ہے۔

کیا اسے تین بار پڑھنے سے پورا قرآن پڑھنے کا ثواب مل جاتا ہے؟

ثواب کے اعتبار سے اسے تہائی قرآن کہا گیا ہے، مگر یہ قرآن کی تلاوت کی جگہ نہیں لے لیتی۔ یہ فضیلت کا بیان ہے، تلاوتِ قرآن کا متبادل نہیں۔

یہ سورہ کب پڑھنے کا معمول ہے؟

روایات میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے اسے سورہ الفلق اور سورہ الناس کے ساتھ پڑھ کر ہاتھوں پر پھونکتے اور جسم پر پھیرتے تھے۔ صبح و شام کے اذکار میں بھی تینوں سورتوں کو تین تین بار پڑھنے کا معمول ہے۔

قرآن کریم آڈیو کے ساتھ سنیں

آڈیو سنیں