Skip to main content

سورة الفلق

سورۃ Al-Falaq - The Daybreak

باب 113 | 5 آیات

ترجمہ: فتح محمد جالندھری

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اس سورۃ کے بارے میں

سورہ الفلق (عربی: الفلق) کا مطلب پھٹنا یعنی صبح کا نمودار ہونا ہے، اور یہ نام سورہ کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے جس میں صبح کے رب کی پناہ مانگی گئی ہے۔ یہ قرآن مجید کی ایک سو تیرہویں سورہ ہے اور اس کی پانچ آیات ہیں۔ اکثر مفسرین اسے مکی قرار دیتے ہیں، اگرچہ بعض روایات میں مدنی ہونے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اس کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ ہر ظاہری اور پوشیدہ نقصان سے حفاظت صرف اللہ کے پاس ہے۔

سورہ میں چار چیزوں سے پناہ مانگی گئی ہے: ہر مخلوق کے شر سے، رات کے اندھیرے کے شر سے جب وہ چھا جائے، گرہوں میں پھونکنے والوں کے شر سے یعنی جادو سے، اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔ اس کے ساتھ سورہ الناس کو ملا کر معوذتین کہا جاتا ہے، یعنی پناہ مانگنے والی دو سورتیں۔ روایات میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سونے سے پہلے اور بیماری کے وقت پڑھا کرتے تھے، اسی لیے یہ ہر مسلمان کے روزمرہ اذکار کا لازمی حصہ ہیں۔

اہم موضوعات

  • صبح کے رب سے پناہ کا سوال
  • مخلوقات اور رات کے اندھیرے کے شر سے حفاظت
  • جادو اور حسد سے پناہ
  • معوذتین کے طور پر روزانہ کا معمول
1

قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلْفَلَقِ

Qul a'uzoo bi rabbil-falaq

کہو، میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے ربّ کی

2

مِن شَرِّ مَا خَلَقَ

Min sharri ma khalaq

ہر اُس چیز کے شر سے جو اُس نے پیدا کی ہے

3

وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ

Wa min sharri ghasiqin iza waqab

اور رات کی تاریکی کے شر سے جب کہ وہ چھا جائے،

4

وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّٰثَٰتِ فِى ٱلْعُقَدِ

Wa min sharrin-naffaa-thaati fil 'uqad

اور گِرہوں میں پُھونکنے والوں (یا والیوں)کے شر سے،

5

وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ

Wa min shar ri haasidin iza hasad

اور حاسد کے شر سے جب کہ وہ حسد کرے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

معوذتین سے کیا مراد ہے؟

معوذتین سے مراد سورہ الفلق اور سورہ الناس ہیں، یعنی وہ دو سورتیں جن میں اللہ کی پناہ مانگی گئی ہے۔ انہیں عام طور پر ایک ساتھ اور سورہ اخلاص کے ساتھ ملا کر پڑھا جاتا ہے۔

کیا یہ سورہ جادو اور نظر بد سے حفاظت دیتی ہے؟

روایات میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیماری اور تکلیف کے وقت انہی سورتوں کو پڑھ کر دم فرماتے تھے۔ علماء ان کی تلاوت کو حفاظت کا مسنون ذریعہ قرار دیتے ہیں، بشرطیکہ ساتھ اللہ پر بھروسہ ہو نہ کہ الفاظ کو خود ساختہ طاقت سمجھا جائے۔

انہیں دن میں کتنی بار پڑھنا چاہیے؟

روایات میں صبح اور شام تین تین بار پڑھنے کا ذکر آیا ہے، اور سونے سے پہلے بھی تین بار پڑھ کر ہاتھوں پر پھونکنا اور جسم پر پھیرنا مسنون ہے۔ پانچ مختصر آیات ہونے کی وجہ سے یہ معمول نبھانا بہت آسان ہے۔

قرآن کریم آڈیو کے ساتھ سنیں

آڈیو سنیں