اس سورۃ کے بارے میں
سورہ الفلق (عربی: الفلق) کا مطلب پھٹنا یعنی صبح کا نمودار ہونا ہے، اور یہ نام سورہ کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے جس میں صبح کے رب کی پناہ مانگی گئی ہے۔ یہ قرآن مجید کی ایک سو تیرہویں سورہ ہے اور اس کی پانچ آیات ہیں۔ اکثر مفسرین اسے مکی قرار دیتے ہیں، اگرچہ بعض روایات میں مدنی ہونے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اس کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ ہر ظاہری اور پوشیدہ نقصان سے حفاظت صرف اللہ کے پاس ہے۔
سورہ میں چار چیزوں سے پناہ مانگی گئی ہے: ہر مخلوق کے شر سے، رات کے اندھیرے کے شر سے جب وہ چھا جائے، گرہوں میں پھونکنے والوں کے شر سے یعنی جادو سے، اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔ اس کے ساتھ سورہ الناس کو ملا کر معوذتین کہا جاتا ہے، یعنی پناہ مانگنے والی دو سورتیں۔ روایات میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سونے سے پہلے اور بیماری کے وقت پڑھا کرتے تھے، اسی لیے یہ ہر مسلمان کے روزمرہ اذکار کا لازمی حصہ ہیں۔