Skip to main content

سورة الكوثر

سورۃ Al-Kawthar - The Abundance

باب 108 | 3 آیات

ترجمہ: فتح محمد جالندھری

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اس سورۃ کے بارے میں

سورہ الکوثر (عربی: الكوثر) کا مطلب ہے بہت زیادہ خیر یا کثرت سے عطا کی گئی نعمت۔ یہ قرآن مجید کی ایک سو آٹھویں سورہ ہے اور اس کی صرف تین آیات ہیں، جو اسے قرآن کی سب سے چھوٹی سورہ بناتی ہیں۔ یہ مکی سورہ ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی دور میں اس وقت نازل ہوئی جب مخالفین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے اولاد ہونے کا طعنہ دے رہے تھے۔ اس کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اللہ نے اپنے نبی کو بے شمار خیر عطا فرمائی ہے۔

سورہ میں تین باتیں ہیں: اللہ کا اعلان کہ ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا، اس کے شکرانے میں نماز پڑھنے اور قربانی کرنے کا حکم، اور آخر میں یہ خبر کہ آپ سے دشمنی رکھنے والا ہی بے نام و نشان رہے گا۔ کوثر کی تفسیر میں اکثر مفسرین جنت کی وہ نہر مراد لیتے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوگی، جبکہ بعض نے اسے ہر قسم کی بے شمار خیر کہا ہے۔ اپنی اختصار کے باوجود یہ سورہ ہر مسلمان کو سکھاتی ہے کہ نعمت کا شکر عبادت اور قربانی سے ادا ہوتا ہے۔

اہم موضوعات

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوثر کی عطا
  • نماز اور قربانی کے ذریعے شکر
  • دشمنانِ رسول کے بے نام و نشان رہ جانے کی خبر
  • قرآن کی سب سے مختصر سورہ
1

إِنَّآ أَعْطَيْنَٰكَ ٱلْكَوْثَرَ

Innaa a'taina kal kauthar

(اے نبیؐ) ہم نے تمہیں کوثر عطا کر دیا۔

2

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَٱنْحَرْ

Fa salli li rabbika wanhar

پس تم اپنے ربّ ہی کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔

3

إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلْأَبْتَرُ

Inna shani-aka huwal abtar

تمہارا دُشمن ہی جَڑ کٹا ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

کوثر سے کیا مراد ہے؟

اکثر مفسرین کے نزدیک کوثر جنت کی وہ نہر ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی گئی، اور اس کا ذکر روایات میں بھی آیا ہے۔ بعض مفسرین نے اس سے ہر قسم کی بے شمار خیر مراد لی ہے، جس میں نبوت، قرآن اور امت کی کثرت سب شامل ہیں۔

یہ سورہ کس موقع پر نازل ہوئی؟

مفسرین کے مطابق یہ اس وقت نازل ہوئی جب مکہ کے کچھ سردار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹے کی وفات پر ابتر یعنی بے نام و نشان کہہ رہے تھے۔ اللہ نے جواب میں بتایا کہ بے نام و نشان تو ان کے دشمن رہیں گے۔

کیا یہ سورہ نماز میں پڑھنا افضل ہے؟

مختصر ہونے کی وجہ سے یہ سورہ نماز میں بہت پڑھی جاتی ہے اور بچوں کو سب سے پہلے یاد کرائی جاتی ہے۔ اس کے لیے کوئی خاص وقت مقرر نہیں، البتہ ایک ہی رکعت میں بار بار دہرانے کے بجائے مختلف سورتیں پڑھنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔

قرآن کریم آڈیو کے ساتھ سنیں

آڈیو سنیں