Skip to main content

سورة الكافرون

سورۃ Al-Kafirun - The Disbelievers

باب 109 | 6 آیات

ترجمہ: فتح محمد جالندھری

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اس سورۃ کے بارے میں

سورہ الکافرون (عربی: الكافرون) کا مطلب ہے انکار کرنے والے، اور یہ نام اس کے پہلے خطاب سے لیا گیا ہے۔ یہ قرآن مجید کی ایک سو نویں سورہ ہے اور اس کی چھ آیات ہیں۔ یہ مکی سورہ ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی دور میں اس وقت نازل ہوئی جب قریش کے سردار یہ تجویز لے کر آئے کہ کچھ عرصہ ہم آپ کے معبود کی عبادت کریں اور کچھ عرصہ آپ ہمارے معبودوں کی۔ اس کا مرکزی مضمون عقیدے میں کسی قسم کی آمیزش سے صاف انکار ہے۔

سورہ نہایت واضح الفاظ میں اعلان کرتی ہے کہ نہ میں تمہارے معبودوں کی عبادت کروں گا اور نہ تم میرے معبود کی، اور آخر میں یہ اصول دیا گیا کہ تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین۔ یہ فیصلہ کن جدائی ہونے کے باوجود اس میں کسی گالی یا زیادتی کی تعلیم نہیں، بلکہ پرامن بیزاری ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے فجر کی سنتوں اور مغرب کی نماز میں پڑھا کرتے تھے، اور بہت سے علماء سونے سے پہلے اس کی تلاوت کو بھی مستحب کہتے ہیں۔

اہم موضوعات

  • عقیدے میں کسی سمجھوتے سے انکار
  • توحید اور شرک کے درمیان واضح خط
  • پرامن انداز میں دین سے بیزاری کا اعلان
  • لکم دینکم ولی دین کا اصول
1

قُلْ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْكَٰفِرُونَ

Qul yaa-ai yuhal kaafiroon

کہہ دو کہ اے کافرو،

2

لَآ أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ

Laa a'budu ma t'abudoon

میں اُن کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو،

3

وَلَآ أَنتُمْ عَٰبِدُونَ مَآ أَعْبُدُ

Wa laa antum 'aabidoona maa a'bud

اور نہ تم اُس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں۔

4

وَلَآ أَنَا۠ عَابِدٌۭ مَّا عَبَدتُّمْ

Wa laa ana 'abidum maa 'abattum

اور نہ میں اُن کی عبادت کرنے والا ہوں جن کی عبادت تم نے کی ہے

5

وَلَآ أَنتُمْ عَٰبِدُونَ مَآ أَعْبُدُ

Wa laa antum 'aabidoona ma a'bud

اور نہ تم اُس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں۔

6

لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِىَ دِينِ

Lakum deenukum wa liya deen.

تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

سورہ الکافرون کس موقع پر نازل ہوئی؟

مفسرین کے مطابق یہ اس وقت نازل ہوئی جب قریش کے سرداروں نے عبادت میں باری باری شرکت کی تجویز پیش کی۔ اللہ نے اس سورہ کے ذریعے یہ راستہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔

کیا اس سورہ کا مطلب دوسروں سے بدسلوکی ہے؟

نہیں، یہ سورہ صرف عقیدے کی حد بندی کرتی ہے، معاملات اور اخلاق کی نہیں۔ قرآن مجید دوسری جگہوں پر غیر مسلموں کے ساتھ انصاف اور حسنِ سلوک کا حکم دیتا ہے، اس لیے دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں۔

یہ سورہ کب پڑھنے کا معمول ہے؟

روایات میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے فجر کی دو سنتوں اور مغرب کی سنتوں میں سورہ اخلاص کے ساتھ پڑھتے تھے۔ بہت سے علماء سونے سے پہلے اس کی تلاوت کو بھی مستحب قرار دیتے ہیں۔

قرآن کریم آڈیو کے ساتھ سنیں

آڈیو سنیں