اس سورۃ کے بارے میں
سورہ القدر (عربی: القدر) کا مطلب قدر و منزلت یا فیصلہ ہے، اور یہ نام لیلۃ القدر یعنی شبِ قدر کی مناسبت سے ہے جس کا اس میں بیان ہوا۔ یہ قرآن مجید کی ستانوے ویں سورہ ہے اور اس کی صرف پانچ آیات ہیں۔ اکثر مفسرین اسے مکی قرار دیتے ہیں، اگرچہ بعض روایات میں مدنی ہونے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اس کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ قرآن مجید ایک بابرکت رات میں نازل ہوا اور وہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
سورہ بتاتی ہے کہ اس رات فرشتے اور روح اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے فیصلے لے کر اترتے ہیں، اور یہ رات طلوعِ فجر تک سراسر سلامتی ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ شبِ قدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کی جائے، اور اکثر علماء ستائیسویں رات کو زیادہ قوی قرار دیتے ہیں، اگرچہ اسے یقینی طور پر متعین نہیں کیا گیا۔ اسی لیے مسلمان رمضان کے آخری دس دنوں میں عبادت، اعتکاف اور دعا میں خاص محنت کرتے ہیں تاکہ یہ رات ان کے ہاتھ سے نہ نکل جائے۔