اس سورۃ کے بارے میں
سورہ النصر (عربی: النصر) کا مطلب مدد یا فتح ہے، اور یہ نام اس کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے جس میں اللہ کی مدد اور فتح کا ذکر ہے۔ یہ قرآن مجید کی ایک سو دسویں سورہ ہے اور اس کی صرف تین آیات ہیں۔ یہ مدنی سورہ ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری دور میں، فتح مکہ کے زمانے کے آس پاس نازل ہوئی۔ اس کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ کامیابی ملنے پر بندے کا رویہ فخر نہیں بلکہ حمد اور استغفار ہونا چاہیے۔
سورہ بتاتی ہے کہ جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے اور لوگ جوق در جوق دین میں داخل ہوتے دکھائی دیں، تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرو اور اس سے مغفرت مانگو، بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ بعض صحابہ کرام نے اس سورہ سے یہ سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے رخصتی کا وقت قریب آ گیا ہے۔ عملی طور پر یہ سورہ ہر مسلمان کو سکھاتی ہے کہ کامیابی کے لمحے میں بھی نظر اپنی کوتاہیوں پر رہنی چاہیے۔