Skip to main content

سورة الناس

سورۃ An-Nas - Mankind

باب 114 | 6 آیات

ترجمہ: فتح محمد جالندھری

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اس سورۃ کے بارے میں

سورہ الناس (عربی: الناس) کا مطلب لوگ ہے، اور یہ نام سورہ میں بار بار آنے والے اسی لفظ سے لیا گیا ہے۔ یہ قرآن مجید کی ایک سو چودہویں یعنی آخری سورہ ہے اور اس کی چھ آیات ہیں۔ اکثر مفسرین اسے مکی قرار دیتے ہیں، اگرچہ بعض روایات میں مدنی ہونے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اس کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں ڈالے جانے والے وسوسوں سے صرف اللہ کی پناہ میں آ کر محفوظ رہ سکتا ہے۔

سورہ اللہ کی تین صفات کے واسطے سے پناہ مانگتی ہے: لوگوں کا رب، لوگوں کا بادشاہ اور لوگوں کا معبود۔ اس کے بعد اس چھپ کر وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے پناہ طلب کی گئی ہے جو انسانوں اور جنوں دونوں میں سے ہو سکتا ہے۔ سورہ الفلق ظاہری نقصانات سے حفاظت مانگتی ہے اور یہ سورہ باطنی یعنی دل کے فتنے سے، اور دونوں مل کر معوذتین کہلاتی ہیں۔ قرآن مجید کا اس دعا پر ختم ہونا خود ایک سبق ہے کہ بندے کی سب سے بڑی ضرورت اپنے رب کی پناہ ہے۔

اہم موضوعات

  • اللہ کی پناہ کی طلب
  • رب، بادشاہ اور معبود ہونے کے واسطے سے دعا
  • دل میں وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے حفاظت
  • قرآن مجید کی آخری سورہ اور اس کا پیغام
1

قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ

Qul a'uzu birabbin naas

کہو، میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے رب

2

مَلِكِ ٱلنَّاسِ

Malikin naas

انسانوں کے بادشاہ

3

إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ

Ilaahin naas

انسانوں کے حقیقی معبُود کی

4

مِن شَرِّ ٱلْوَسْوَاسِ ٱلْخَنَّاسِ

Min sharril was waasil khannaas

اُس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو بار بار پلٹ کر آتا ہے،

5

ٱلَّذِى يُوَسْوِسُ فِى صُدُورِ ٱلنَّاسِ

Al lazee yuwas wisu fee sudoorin naas

جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے

6

مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ

Minal jinnati wan naas

خواہ وہ جِنّوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

سورہ الناس اور سورہ الفلق میں کیا فرق ہے؟

سورہ الفلق میں زیادہ تر ظاہری نقصانات جیسے مخلوق کے شر، جادو اور حسد سے پناہ مانگی گئی ہے۔ سورہ الناس باطنی خطرے یعنی دل میں ڈالے جانے والے وسوسے سے حفاظت کی دعا ہے، اور یہی دونوں کا بنیادی فرق ہے۔

قرآن مجید کا اختتام اسی سورہ پر کیوں ہوا؟

اس ترتیب میں یہ پہلو نمایاں ہے کہ ہدایت کی پوری کتاب پڑھنے کے بعد بندے کی آخری اور سب سے بڑی ضرورت اللہ کی پناہ اور اس پر ثابت قدمی ہے۔ اسی لیے قرآن اپنے اختتام پر بندے کے ہاتھ میں یہ دعا تھما دیتا ہے۔

یہ سورہ کب اور کتنی بار پڑھنی چاہیے؟

روایات میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح و شام اور سونے سے پہلے اسے سورہ الفلق اور سورہ اخلاص کے ساتھ تین تین بار پڑھتے تھے۔ ہر فرض نماز کے بعد بھی ان سورتوں کے پڑھنے کا معمول روایات میں منقول ہے۔

قرآن کریم آڈیو کے ساتھ سنیں

آڈیو سنیں